پاکستان نے بھارتی آرمی چیف کا بیان مسترد کردیا

شائع 17 اپريل 2020 10:40am
فائل فوٹو

اسلام آباد:پاکستان نے بھارتی آرمی چیف کا بیان مسترد کردیا،ترجمان دفترخارجہ نے کہا ہے کہ بی جے پی حکومت ہندوتوا نظریہ پرعمل پیراہے،مقبوضہ کشمیرمیں کورونا متاثرین کی بڑھتی تعداد پر تشویش ہے۔

ترجمان دفترخارجہ نے ہفتہ وارپریس بریفنگ میں مقبوضہ کشمیرمیں مظالم ، بھارتی سرکارکی ہٹ دھرمی اورکورونا کی بڑھتے کیسز پر تشوش کا اظہارکیا ۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھاکہ دنیا کوویڈ19سے لڑ ہی جبکہ بھارت مقبوضہ کشمیرمیں مظالم جاری رکھے ہوئے ہے مقبوضہ کشمیرمیں کورونا کیسزبڑھنے پرپرتشویش ہے،وادی میں بنیادی صحت،ادویات اور خوراک تک رسائی نہیں، بی جے پی کی حکومت ہندوتوا ایجنڈا پرعمل پیرا ہے، بھارتی آرمی چیف کا بیان مسترد کرتےہیں ۔

عائشہ فاروقی کا مزیدکہنا تھاکہ بھارت نےرواں سال 765بارسیزفائر کی خلاف ورزی کی ،پاکستان بھارتی بلااشتعال فائرنگ کا باوقارانداز میں جواب دیتا ہے،بھارت کویواین ملٹری آبزرورگروپ کومقبوضہ کشمیرمیں جانے کی اجازت دینا چاہیئے۔

 ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ وزیراعظم نے ترقی پذیرممالک کیلئے قرضوں میں رعایت کا معاملہ اٹھایا ،وزیرخارجہ اورمشیر خزانہ نے دنیا بھرکے متعلقہ حکام سے رابطوں میں یہ معاملہ اٹھایا، ڈی20ممالک نے ترقی پزیرممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں رعایت کا اعلان کیا، پاکستان سمجھتا ہے کہ عالمی معاشی بحالی کیلئے مل کر کوشش کرنا ہوگی۔

 ترجمان کا مزیدکہنا تھا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی کی جانب سے دیئے گئے کورونا ٹسٹنگ اوردیگر میٹیریل جلد پاکستان منتقل کیا جائےگا ،ہم آئی اے ای اے ممبرُممالک کے اس عالمی فائیٹ میں تعاون پرشکرگزار ہیں۔

عائشہ فاروقی نے بتایاکہ وزارت خارجہ اور بیرون ممالک سفارتخانے اپنے بیرون ممالک شہریوں سے مسلسل رابطے میں ہیں،4300پاکستانیوں نے واپس آنے کی درخواست کی ہے،بیرون ملک سے اب تک 2287پاکستانیوں کو خصوصی پروازوں سے واپس لایا گیا ہے اگلے مرحلے میں مزید اتنے افراد کے انتظامات کئے جارہے ،عالمی معاشی بحالی کیلئے مل کرکوشش کرنا ہوگی۔

ترجمان دفترخارجہ  کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے دوسرے مرحلہ میں 400پاکستانی واپس لائے جائیں گے ،ہم  میزبان ممالک کےُ پاکستانیوں کی واپسی کیلئے تعاون پر شکرگزار ہیں ۔